تحریر: ڈاکٹر محمد لطیف مطہری
حوزہ نیوز ایجنسی | اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ دنیا کے حالات ایک جیسے نہیں رہتے۔ کبھی خوشی تو کبھی غم، کبھی عزت تو کبھی ذلت، کبھی دولت تو کبھی فقر، کبھی عروج تو کبھی زوال۔ قرآن مجید اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے: (وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ) یعنی ہم دنوں کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔ تاریخ اور واقعاتِ عالم اس حقیقت کے زندہ شاہد ہیں کہ زمانہ کسی ایک حال پر قائم نہیں رہتا۔
جعفر برمکی کے گھرانے کا انجام
تاریخ میں نظرآتا ہے کہ جعفر بن یحییٰ برمکی جو خلیفہ ہارون الرشید کا مقرب اور نہایت بااثر وزیر تھا، اس کی شان و شوکت کا یہ عالم تھا کہ بڑے بڑے امراء اس کے دربار میں حاضری کو باعثِ فخر سمجھتے تھے۔ اس کے گھر میں سینکڑوں خادمائیں اور بے شمار نعمتیں موجود تھیں۔ اہلِ علم، شعراء اور ضرورت مند اس کی سخاوت سے فیض پاتے تھے۔
مگر گردشِ زمانہ نے ایسا پلٹا کھایا کہ وہی خاندان محتاجی کا شکار ہو گیا۔ روایت ہے کہ اس کی والدہ عبادہ ایک دن پرانے کپڑوں میں ایک معمولی امداد کے لیے لوگوں کے دروازے پر آئی۔ وہی عورت جس کے پاس کبھی سینکڑوں خادمائیں تھیں، اب چند درہم کی محتاج تھی۔ یہ منظر اس بات کی واضح مثال ہے کہ دنیا کی شان و شوکت ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔
اسی طرح ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھا کھانا کھا رہا تھا۔ سامنے بھنی ہوئی مرغی رکھی تھی کہ ایک فقیر نے دروازے پر آواز دی۔ اس شخص نے فقیر کو جھڑک دیا اور خالی ہاتھ واپس کر دیا۔ کچھ عرصہ گزرا تو گردشِ زمانہ نے اس کی حالت بدل دی۔ وہ خود محتاج ہو گیا، مال و دولت ختم ہو گیا اور حالات یہاں تک پہنچے کہ بیوی بھی جدا ہو گئی۔
وقت گزرا، اس کی سابقہ بیوی نے کسی اور سے نکاح کر لیا۔ ایک دن وہ اپنے نئے شوہر کے ساتھ کھانا کھا رہی تھی کہ ایک فقیر نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ شوہر نے کہا: یہ مرغی فقیر کو دے دو۔ جب وہ عورت مرغی لے کر دروازے پر گئی تو دیکھا کہ فقیر اس کا پہلا شوہر ہے۔ یہ منظر دیکھ کر وہ رو پڑی۔ یوں ایک لمحے کی بے رحمی کا انجام گردشِ زمانہ نے دنیا میں ہی دکھا دیا۔
حضرت یوسف اور زلیخا کا قصہ
گردشِ زمانہ کی سب سے بامعنی مثال حضرت یوسف کا واقعہ ہے۔ وہ ایک نبی کے بیٹے تھے مگر بھائیوں کی سازش کے باعث کنویں میں ڈال دیے گئے، غلام بنا کر بیچ دیے گئے اور پھر ایک جھوٹے الزام میں قید خانہ بھیج دیے گئے۔
ایک وقت ایسا تھا کہ وہ غلام اور قیدی تھے، مگر صبر، تقویٰ اور اللہ تعالی پر کامل ایمان، توکل اور بھروسے نے حالات بدل دیے۔ وہی قیدی ایک دن مصر کے خزانے کا نگران اور بااختیار حکمران بن گیا۔
دوسری طرف زلیخا جو کبھی عزت، دولت اور اقتدار کی مالک تھی، وقت کے ساتھ محتاج اور کمزور ہو گئی۔ بعد میں جب اس کی ملاقات حضرت یوسفؑ سے ہوئی تو دنیا کی بے ثباتی اس پر پوری طرح واضح ہو چکی تھی۔ یہ واقعہ اس حقیقت کو مزید روشن کرتا ہے کہ نہ عزت ہمیشہ رہتی ہے اور نہ محرومی دائمی ہوتی ہے۔
دنیا کی تاریخ بھی اسی اصول پر قائم ہے۔ ایک زمانے میں سوویت یونین روس دنیا کی سپر پاور تھا، مگر وقت کی گردش نے اسے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔آج امریکا شیطان بزرگ بھی اپنے آپ کو سپر پاور سمجھ کر من مانیاں کر رہا ہے کل اس کا حشر بی روس سے کم نہیں ہوگا۔
دنیا میں دائمی اقتدار کسی کو حاصل نہیں۔
ان واقعات سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اگر خدا کی طرف سے کوئی نعمت ملے تو غرور نہ کریں۔
مصیبت آئے تو مایوس نہ ہوں۔
محتاجوں اور ضرورت مندوں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں۔
صبر اور شکر دونوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
اگر آج عروج ہے تو زوال کو یاد رکھیں، اور اگر آج مشکل ہے تو آسانی کی امید رکھیں۔ کیونکہ گردشِ زمانہ کا اصول یہی ہے کہ حالات بدلتے رہتے ہیں، اور اصل کامیابی اسی کی ہے جو ہر حال میں اللہ تعالی سے وابستہ رہے۔









آپ کا تبصرہ